اسلام آباد: پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے ترجمان نے جمعہ کو ایندھن کے ذخائر کی کمی سے متعلق تمام افواہوں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا وافر ذخیرہ موجود ہے۔
پی ایس او کے ترجمان کے مطابق وزارت توانائی اور آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) دیگر آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کی مصنوعات کی دستیابی کے حوالے سے مجموعی صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہے تاکہ ملک کی سپلائی چین کو بغیر کسی رکاوٹ کے برقرار رکھا جاسکے۔
انہوں نے کہا کہ پی ایس او ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی بلاتعطل فراہمی جاری رکھے گا، ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے جب کہ 80 ہزار میٹرک ٹن پیٹرول اور 90 ہزار میٹرک ٹن ڈیزل کراچی بندرگاہ پر پہنچ چکا ہے۔
ترجمان اوگرا کا کہنا تھا کہ مقامی ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیاں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کام کر رہی ہیں۔
گزشتہ ہفتے، آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) نے وفاقی حکومت سے کہا کہ وہ ملک میں ایندھن کی قلت سے بچنے کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ کے بروقت اجرا کو یقینی بنانے کے لیے فوری مداخلت کرے۔
آئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل (OCAC) نے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (OMCs) اور ریفائنریز کی جانب سے ایک خط لکھا جس میں پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ (LCs) کھولنے میں تاخیر کی وجہ سے درپیش چیلنجوں پر روشنی ڈالی گئی۔
ایل سیز کے نہ کھلنے کی وجہ سے تیل کے چند کارگوز منسوخ کیے گئے ہیں۔
پاکستان کو ہر ماہ تقریباً 430,000 میٹرک ٹن (MTs) موگاس، 200,000 MTs ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) اور 650,000 MTs خام تیل درآمد کرنے کی ضرورت ہے، جس کی لاگت تقریباً 1.3 بلین ڈالر ہے۔
.jpeg)
Comments
Post a Comment